(۳۱۲۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ أُنَاسًا کَانُوا عِنْدَ فُسْطَاطِ عَائِشَۃَ ، فَمَرَّ عُثْمَان أُری ذَاکَ بِمَکَّۃَ ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَمَا بَقِیَ أَحَدٌ مِنْہُمْ إلاَّ لَعَنَہُ ، أَوْ سَبَّہُ غَیْرِی، وَکَانَ فِیہِمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، فَکَانَ عُثْمَان عَلَی الْکُوفِیِّ أَجْرَأَ مِنْہُ عَلَی غَیْرِہِ ، فَقَالَ : یَا کُوفِی ، أَتَشْتِمُنِی ؟ اقْدَمِ الْمَدِینَۃَ ، کَأَنَّہُ یَتَہَدَّدُہُ ، قَالَ : فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، فَقِیلَ لَہُ : عَلَیْک بِطَلْحَۃِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ مَعَہُ طَلْحَۃُ حَتَّی أَتَی عُثْمَانَ ، قَالَ عُثْمَان : وَاللہِ لاَجْلِدَنَّکَ مِئَۃ ، قَالَ طَلْحَۃُ : وَاللہِ لاَ تَجْلِدُہُ مِئَۃ إلاَّ أَنْ یَکُونَ زَانِیًا ، قَالَ : لأَحْرِمَنَّکَ عَطَائَک ، قَالَ : فَقَالَ طَلْحَۃُ : إنَّ اللَّہَ سَیَرْزُقُہُ۔
(٣١٢٧٠) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ بہت سے لوگ حضرت عائشہ (رض) کے خیمہ کے پاس تھے کہ ادھر سے حضرت عثمان (رض) کا گزر ہوا، میرا خیال ہے کہ یہ مکہ کا واقعہ ہے، ابو سعید فرماتے ہیں کہ میرے علاوہ ان تمام آدمیوں نے حضرت عثمان (رض) پر لعنت کی اور ان کو برا بھلا کہا، ان میں ایک آدمی اہل کوفہ میں سے تھا، حضرت عثمان (رض) نے دوسروں کے مقابلے میں اس کوفی پر زیادہ جرأت دکھائی اور کہا اے کوفہ والے ! کیا تم مجھے گالیاں دیتے ہو ؟ ذرا مدینہ آؤ، یہ بات آپ نے دھمکی کے انداز میں فرمائی، وہ آدمی مدینہ آیا ، اس کو کہا گیا کہ طلحہ (رض) کے ساتھ رہو، کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ (رض) اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان (رض) کے پاس آئے، عثمان (رض) نے فرمایا : بخدا میں تمہیں سو کوڑے لگاؤں گا، حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس کو صرف زانی ہونے کی صورت میں ہی سو کوڑے لگا سکتے ہو، آپ نے اس سے فرمایا میں تجھ کو تیرے وظیفے سے محروم کروں گا، حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کو روزی دے دیں گے۔