(۳۱۳۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَائِدَۃٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : لَئنْ کَانَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ تَرَکَا ہَذَا الْمَالَ وَہُوَ یَحِلُّ لَہُمَا مِنْہُ شَیْئٌ لَقَدْ غُبِنَا وَنَقَصَ رَأْیُہُمَا ، وَلَعَمْرُ اللہِ مَا کَانَا بِمَغْبُونَیْنِ ، وَلاَ نَاقِصِی الرَّأْی ، وَلَئنْ کَانَا امْرَأَیْنِ یَحْرُمُ عَلَیْہِمَا مِنْ ہَذَا الْمَالِ الَّذِی أَصَبْنَا بَعْدَہُمَا لَقَدْ ہَلَکْنَا وَایْمُ اللہِ مَا جَائَ الْوَہَمُ إلاَّ مِنْ قِبَلِنَا۔
(٣١٣٥١) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص (رض) نے فرمایا : اگر حضرت ابوبکر اور عمر (رض) نے یہ مال اس حال میں چھوڑا کہ ان کے لیے اس میں سے کچھ حلال تھا تو وہ گھاٹے میں رہ گئے اور ان کی رائے کمزور رہی، اور خدا کی قسم ! نہ وہ گھاٹا کھانے والے تھے اور نہ ضعیف الرائے تھے، اور اگر ان پر مال جو ہم نے ان کے بعد پایا حرام تھا تو یقیناً ہم ہلاک ہوگئے، اور بخدا غلطی ہم لوگوں کو ہی لگی ہے۔