hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31351

.

ابن أبي شيبة

31351
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۳۵۲) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ أَمِیرًا عَلَی مِصْرَ ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ مُعَاوِیَۃُ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ بِکِتَابٍ فَأَغْلَظَا لَہُ فِیہِ وَشَتَمَاہُ وَأَوْعَدَاہُ فَکَتَبَ إلَیْہِمَا بِکِتَابٍ لَیِّنٍ یُقَارِبُہُمَا وَیُطْمِعَہُمَا فِی نَفْسِہِ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَاہُمَا الْکِتَابَ کَتَبَا إلَیْہِ بِکِتَابٍ لَیِّنٍ یَذْکُرَانِ فَضْلَہُ وَیُطْمِعَانِہِ فِیمَا قِبلَہُمَا ، فَکَتَبَ إلَیْہِمَا بِجَوَابِ کِتَابِہِمَا الأَوَّلِ یُغْلِظُ لَہُمَا ، فَلَمْ یَدَعْ شَیْئًا إلاَّ قَالَہُ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِلآخَرِ: لاَ وَاللہِ مَا نُطِیقُ نَحْنُ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ ، وَلَکِنْ تَعَالَ نَمْکُرُ بِہِ عِنْدَ عَلِیٍّ ، قَالَ : فَبَعْثَا بِکِتَابِہِ الأُولَی إلَی عَلِیٍّ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ أَہْلُ الْکُوفَۃِ : عَدُوُّ اللہِ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ فَاعْزِلْہُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : وَیْحَکُمْ أَنَا وَاللہِ أَعْلَمُ ہِیَ وَاللہِ إحْدَی فِعْلاَتِہِ ، فَأَبَوْا إلاَّ عَزْلَہُ فَعَزَلَہُ ، وَبَعَثَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ لَہُ قَیْسٌ : اُنْظُرْ مَا آمُرُک بِہِ ، إذَا کَتَبَ إلَیْک مُعَاوِیَۃُ بِکَذَا وَکَذَا فَاکْتُبْ إلَیْہِ بِکَذَا وَکَذَا ، وَإِذَا صَنَعَ کَذَا فَاصْنَعْ کَذَا ، وَإِیَّاکَ أَنْ تُخَالِفَ مَا أَمَرْتُک بِہِ ، وَاللہِ لَکَأَنِّی أَنْظُرُ إلَیْک إنْ فَعَلْت قَدْ قُتِلْت ، ثُمَّ أُدْخِلْت فِی جَوْفَ حِمَارٍ فَأُحْرِقْت بِالنَّارِ ، قَالَ : فَفَعَلَ ذَلِکَ بِہِ۔
(٣١٣٥٢) محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب نے قیس بن سعد کو مصر کا امیر بنا کر بھیجا، حضرت معاویہ اور عمروبن العاص (رض) نے ان کو خط لکھ بھیجا جس میں ان کو سخت الفاظ میں خطاب کیا، چنانچہ انھوں نے ان کی طرف جواب میں نرم الفاظ میں خط لکھا جس میں ان کو اپنے قریب کیا اور ان کو اپنے بارے میں طمع دلائی، جب ان کے پاس خط پہنچا تو انھوں نے حضرت قیس کے پاس نرم الفاظ پر مشتمل خط بھیجا جس میں ان کی فضیلت تحریر کی اور ان کو اس خط میں اپنی جانب لالچ دیا، چنانچہ قیس نے ان کو پہلے خط کا جواب دیا جس میں ان کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے، اور کوئی بات جواب کے بغیر نہیں چھوڑی، یہ دیکھ کر ان دونوں نے ایک دوسرے سے کہا : واللہ ! ہم قیس بن سعد پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتے، لیکن ہم حضرت علی کے پاس خط لکھ کر قیس کے ساتھ ایک تدبیر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت علی (رض) کو ان کا پہلا خط بھیج دیا، جب خط پہنچا تو حضرت علی (رض) سے کوفہ والوں نے کہا : قیس بن سعد اللہ کا دشمن ہے اس کو معزول کردیں، حضرت علی (رض) نے فرمایا : تمہارا ناس ہو ، بخدا میں تم سے زیادہ جانتا ہوں یہ توقیس بن سعد کا ایک کردار ہے، لیکن کوفہ والے مسلسل قیس بن سعد کی معزولی کا مطالبہ کرنے لگے، چاروناچار حضرت علی (رض) نے ان کو معزول کردیا اور ان کی جگہ محمّد بن ابی بکر کو امیر بنا کر بھیجا، جب محمد بن ابی بکر قیس بن سعد کے پاس پہنچے تو قیس نے فرمایا میری بات غور سے سنو ! اگر حضرت معاویہ تمہاری طرف اس مضمون کا خط لکھیں تو تم یہ یہ بات لکھ کر جواب دینا، اور جب وہ یہ یہ کام کریں تو تم اس طرح کرنا، اور خبردار ! میرے اس حکم کی مخالفت نہ کرنا، اللہ کی قسم ! گویا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر تم میرے حکم کی مخالفت کرو گے تو تم قتل کردیے جاؤ گے اور پھر گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلا دیے جاؤ گے، راوی کہتے ہیں : کہ بعد میں ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔