(۳۱۵۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّیَّانِ ، قَالَ : حضَرْت جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ فِی الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ ، وَقَالَ لَہُ زُرَارَۃُ بْنُ أَوْفَی - وَہُوَ یَوْمَئِذٍ عَلَی الْقَضَائِ : أَنَّہُ رُفِعَ إلَیَّ غُلاَمٌ أَعْتَقَ عَبْدًا لَہُ ، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ الأَوْلِیَائُ ، فَرَأَیْت أَنْ أَرُدَّ ذَلِکَ ، ثُمَّ یُؤدِّی الْغُلاَمُ ، حَتَّی یَشِبَّ الْغُلاَمُ وَیُحِبَّ الْمَالَ ، فَإِنْ شَائَ أَنْ یَمْضِیَ أَمْضَی ، وَإِنْ شَائَ أَنْ یَرُدَّ رَدَّ۔
(٣١٥١٠) مستمر بن ریّان سے روایت ہے فرمایا کہ میں جامع مسجد میں حضرت جابر بن زید کے پاس تھا جبکہ ان کو حضرت زرارہ بن اوفی نے جو اس وقت قاضی تھے فرمایا کہ میرے پاس ایک نابالغ بچے کا مقدمہ آیا ہے جس نے اپنے غلام کو آزاد کردیا تھا اور اولیاء نے اس کو ماننے سے انکار کردیا تھا، میری رائے یہ ہوئی کہ اس آزادی کو ردّ کر دوں پھر بعد میں لڑکا جب بالغ ہوجائے گا اور اس کے دل میں مال کی محبت آنے لگے گی اس وقت اگر وہ لڑکا غلام کی آزادی کو نافذ کرنا چاہے تو کرلے اور اگر آزادی سے دستبردار ہونا چاہے تو ہوجائے۔