(۳۱۵۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْف ، قَالَ : شَہِدْت ہِشَامَ بْنَ ہُبَیْرَۃٍ قَضَی فِی رَجُلٍ أَوْصَی لأُخْتٍ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ بِمِثْلِ نَصِیبِ اثْنَیْنِ مِنْ وَلَدِہِ ، وَتَرَکَ الْمَیِّتُ بَنِینَ وَبَنَاتٍ ، فَأَرَادَتِ الْمُوصَی لَہَا أَنْ تَجْعَلَ نَفْسَہَا بِمَنْزِلَۃِ الذَّکَرِ ، وَأَبَی الْوَرَثَۃُ أَنْ یَجْعَلُوہَا إلاَّ بِمَنْزِلَۃِ الأُنْثَی ، فَقَضَی أَنَّہَا بِمَنْزِلَتِہَا إنْ لَمْ تَکُنْ تُبَیِّنَ۔
(٣١٥١١) عوف کہتے ہیں کہ میں ہشام بن ہبیرہ کے پاس اس وقت موجود تھا جب انھوں نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے مرتے وقت اپنی بہن کے لیے اپنے دو بچوں کے برابر مال کی وصیت کی تھی، اور اس کے ورثاء میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں تھے، اس بہن نے جس کے لیے وصیت کی گئی تھی یہ چاہا کہ اپنے آپ کو مذکر اولاد کے برابر قرار دے اور ورثاء چاہتے تھے کہ اس کو مونث اولاد کے برابر حصّہ دیں، انھوں نے فیصلہ فرمایا کہ اس بہن کو مونث اولاد کے برابر سمجھا جائے گا اگر وہ واضح طور پر بیان نہ کرے۔