(۳۱۶۲۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ رُفَیْعٍ ، قَالَ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ بِالرَّیِّ وَتَرَکَ مَالاً وَرَقِیقًا ، فَقَالَ : عَبْدِی فُلاَنٌ لِفُلاَنٍ وَعَبْدِی فُلاَنٌ لِفُلاَنٍ ، وَلَمْ تَبْلُغْ وَصِیَّتُہُ الثُّلُثَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ بِالرَّقِیقِ إلَی الْکُوفَۃِ مَاتَ بَعْضُ رَقِیقِ الْوَرَثَۃِ ، وَلَمْ یَمُتْ رَقِیقُ الَّذِی أَوْصَی لَہُمْ ، فَسَأَلْت إبْرَاہِیمَ ؟ فَقَالَ : یُعْطَی أَصْحَابَ الْوَصِیَّۃِ عَلَی مَا أَوْصَی بِہِ صَاحِبُہُ۔
(٣١٦٢٨) عبد الکریم بن رفیع فرماتے ہیں کہ رےؔ میں ایک آدمی فوت ہوگیا اور اس نے مال اور غلام ترکے میں چھوڑے، اور وصیت میں کہا : میر افلاں غلام فلاں کے لیے ہے، اور فلاں غلام فلاں شخص کے لیے ہے، اور اس کی وصیت ایک تہائی مال تک نہیں پہنچی ، پھر جب غلاموں کو کوفہ لایا گیا تو بعض غلام مرگئے، اور وہ غلام نہیں مرے جن کی اس نے ان لوگوں کے لیے وصیت کی تھی، میں نے اس معاملے کے بارے میں حضرت ابراہیم سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا جن لوگوں کے غلاموں کی وصیت کی گئی ہے ان کو وصیت کرنے والے کی وصیت کے مطابق غلام دے دیے جائیں۔