(۳۱۶۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَحَقٌّ تَسْوِیَۃُ النِّحَلِ بَیْنَ الْوَلَدِ عَلَی کِتَابِ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَقَدْ بَلَغَنَا ذَلِکَ عَنْ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ : سَوَّیْت بَیْنَ وَلَدِکَ ؟ قُلْتُ : فِی النُّعْمَانِ ؟ قَالَ : وَغَیْرِہِ ، زَعَمُوا۔
(٣١٦٣٥) ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ کی رُو سے بچوں کو مال دینے میں برابر ی ضروری ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں ! اور ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے صحابی سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے اپنے بچوں میں برابری کی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یہ بات حضرت نعمان کے بارے میں منقول ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ محدثین فرماتے ہیں کہ کچھ اور صحابہ کے بارے میں بھی یہی بات منقول ہے۔