(۳۱۶۳۶) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَقُولُ : أَعْطَانِی أَبِی عَطِیَّۃً ، فَقَالَتْ أُمِّی عَمْرَۃُ ابْنَۃُ رَوَاحَۃَ : فَلاَ أَرْضَی حَتَّی تُشْہِدَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی أَعْطَیْت ابْنَ عَمْرَۃَ عَطِیَّۃً فَأَمَرَتْنِی أَنْ أُشْہِدَک ، فَقَالَ : أَعْطَیْت کُلَّ وَلَدِکَ مِثْلَ ہَذَا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِیَّتَہُ۔
(بخاری ۲۵۸۷۔ مسلم ۱۲۴۲)
(٣١٦٣٦) شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے والد محترم نے مجھے کچھ مال دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گواہ نہ بنالیں، چنانچہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عمرہ کے بیٹے کو کچھ مال دیا ہے، وہ کہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اتنا مال اپنے ہر بچے کو دیا ہے ؟ وہ فرمانے لگے کہ نہیں ! آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان برابری کیا کرو “ فرماتے ہیں انھوں نے واپس آ کر اپنا مال واپس لے لیا۔