(۳۱۶۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ : کَانَ عِنْدَ عَبْدِ اللہِ فَأَتَاہُ رَجُلٌ عَلَی فَرَسٍ أَبْلَقٍ ، فَقَالَ : تَأْمُرُنِی أَنْ أَشْتَرِیَ ہَذَا ؟ قَالَ : وَمَا شَأْنُہُ ؟ قَالَ : أَوْصَی إلَیَّ رَجُلٌ وَتَرَکَہُ فَأَقَمْتہ فِی السُّوقِ عَلَی ثَمَنٍ ، قَالَ : لاَ تَشْتَرِہِ ، وَلاَ تَسْتَسْلِفْ مِنْ مَالِہِ۔
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : سَمِعْتہ مِنْ صِلَۃَ مُنْذُ سِتِّینَ سَنَۃً۔
(٣١٦٦٣) صلہ بن زفر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے کہا کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں اس مال میں سے کچھ خریدوں ؟ آپ نے پوچھا ” یہ کیسا مال ہے ؟ “ اس نے کہا : ایک آدمی نے مجھے وصیت کی اور یہ مال چھوڑ کر مرا، میں نے اس کو ایک ثمن کے بدلے بازار میں لگا دیا، آپ نے فرمایا اس کو نہ خریدو اور اس کے مال سے کچھ نہ لو۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے صلہ بن زفر سے یہ بات ساٹھ سال پہلے سنی تھی۔