(۳۱۶۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ ہَارُونَ الْبُرْجُمِیُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ، قَالاَ : فِی رَجُلٍ أَوْصَی لِعَبْدِہِ بِالثُّلُثِ ، قَالاَ : ذَلِکَ مِنْ رَقَبَتِہِ ، فَإِنْ کَانَ الثُّلُثُ أَکْثَرَ مِنْ ثَمَنِہِ عَتَقَ وَدَفَعَ إلَیْہِ مَا بَقِی ، وَإِنْ کَانَ أَقَلَّ مِنْ ثُمَّنِہِ عَتَقَ وَسَعَی لَہُمْ فِیمَا بَقِی ، وَإِنْ أَوْصَی لَہُمْ بِدَرَاہِمَ ، فَإِنْ شَائَ الْوَرَثَۃُ أَجَازُوا ، وَإِنْ شَاؤُوا لَمْ یُجِیزُوا۔
(٣١٦٦٤) اشعث سے روایت ہے کہ حضرت حسن اور محمد بن سیرین نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے غلام کے لیے ایک تہائی مال کی وصیت کی تھی کہ یہ مال اس کی گردن میں سے ہی دیا جائے گا، سو اگر ایک تہائی اس کی قیمت سے زائد ہو تو اس کو آزاد کردیا جائے گا اور باقی مال اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر اس کی قیمت سے کم ہو تو وہ آزاد ہوجائے گا اور باقی قیمت ورثاء کے لیے کمائے گا، اور اگر کسی مرنے والے نے غلاموں کو دراہم دینے کی وصیت کی تو اگر ورثاء چاہیں تو اس وصیت کو نافذ کردیں اور چاہیں تو نافذ نہ کریں۔