hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31735

.

ابن أبي شيبة

31735
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۷۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ بَنِی عَمِّہَا ، أَحَدُہُمْ أَخُوہَا لأُمِّہَا ، قَالَ : فَقَضَی فِیہَا عُمَرُ وَعَلِیٌّ وَزَیْدٌ : أَنَّ لأَخِیہَا مِنْ أُمِّہَا السُّدُسَ ، وَہُوَ شَرِیکُہُمْ بَعْدُ فِی الْمَالِ ، وَقَضَی فِیہَا عَبْدُ اللہِ : أَنَّ الْمَالَ لَہُ دُونَ بَنِی عَمِّہِ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہِیَ فِی قَوْلِ عُمَرَ وَعَلِیٍّ وَزَیْدٍ : مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَہِیَ فِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ وَشُرَیْحٍ : مِنْ سَہْمٍ وَاحِدٍ وَہُوَ جَمِیعُ الْمَالِ۔
(٣١٧٣٦) ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس عورت نے مرتے وقت چچا زاد بھائی چھوڑے جن میں سے ایک اس کا ماں شریک بھائی ہو، اس کے بارے میں حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت زید (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے ماں شریک بھائی کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور پھر وہ مال میں دوسروں کے ساتھ شریک ہوگا، اور اس کے بارے میں حضرت عبداللہ (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ مال اسی کو ہی ملے گا نہ کہ اس میت کے دوسرے چچا زاد بھائیوں کو۔
ابو بکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر، حضرت علی، اور حضرت زید (رض) کے قول کے مطابق چھ حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت عبداللہ اور شریح (رض) کے قول کے مطابق ایک حصّے سے نکلے گا، اور وہ پورا مال ہوگا۔