(۳۱۷۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَوْسٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ عِقَالٍ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ فِی ابْنَیْ عَمٍّ أَحَدُہُمَا زَوْجٌ، وَالآخَرُ أَخٌ لأُمٍّ ، فَقَالَ لِشُرَیْحٍ : قُلْ فِیہَا ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلأَخِ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : رَأْیٌ ؟ قَالَ : کَذَلِکَ رَأَیْت ، فَأَعْطَی عَلِیٌّ الزَّوْجَ النِّصْفَ ، وَالأَخ السُّدُسَ ، وَجَعَلَ مَا بَقِیَ بَیْنَہُمَا۔
(٣١٧٣٧) حکیم بن عقال فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس دو چچا زاد بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک شوہر تھا اور دوسرا ماں شریک بھائی تھا، آپ نے حضرت شریح سے فرمایا کہ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت شریح نے فرمایا کہ شوہر کے لیے نصف ہے اور باقی بھائی کے لئے، حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کیا آپ کی یہی رائے ہے ؟ انھوں نے فرمایا : میری رائے تو یہی ہے، چنانچہ حضرت علی (رض) نے شوہر کو نصف مال دے دیا اور بھائی کو چھٹا حصّہ دے دیا، اور باقی مال دونوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔