(۳۱۷۳۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ أَخَوَیْہَا لأُمِّہَا ، أَحَدُہُمَا ابْنُ عَمِّہَا، فَقَالَ عَلِیٌّ وَزَیْدٌ: الثُّلُثُ بَیْنَہُمَا، وَمَا بَقِیَ فَلاِبْنِ عَمِّہَا، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: الْمَالُ بَیْنَہُمَا۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ سَہْمَیْنِ۔
(٣١٧٣٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ عورت جس نے اپنے دو ماں شریک بھائی چھوڑے ہوں جن میں سے ایک اس کا چچا زاد بھائی ہو اس کے بارے میں حضرت علی اور حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ ایک تہائی مال ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا اور باقی عورت کے چچا زاد بھائی کے لیے ہوگا، اور حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ مال ان کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم ہوگا۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور حضرت زید (رض) کے اقوال کے مطابق تین حصّوں سے نکلے گا اور حضرت ابن مسعود (رض) کے قول کے مطابق دو حصّوں سے نکلے گا۔