(۳۱۷۳۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ ثَلاَثَۃً بَنِی عَمٍّ أَحَدُہُمْ زَوْجُہَا ، وَالآخَرُ أَخُوہَا لأُمِّہَا ، فَقَالَ عَلِیٌّ وَزَیْدٌ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ، وَلِلأَخِ مِنَ الأُمِّ السُّدُسُ ، وَمَا بَقِیَ فَہُوَ بَیْنَہُمْ سَوَائٌ ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلأَخِ مِنَ الأُمِّ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : وَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ مِنْ سِتَّۃِ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ثَلاثَۃ ، وَلِلأَخِ لِلأُمِّ السُّدُسُ ، وَیَبْقَی سَہْمَانِ ، فَہُمَا بَیْنَہُمَا ، وَفِی قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ سَہْمَیْنِ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلأَخِ لِلأُمِّ۔
(٣١٧٣٨) ابراہیم سے روایت ہے کہ وہ عورت جس نے تین چچا زاد بھائیوں کو چھوڑا جن میں سے ایک اس کا شوہر تھا اور دوسرا اس کا ماں شریک بھائی تھا، اس کے بارے میں حضرت علی اور حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ نصف مال شوہر کے لیے اور چھٹا حصّہ ماں شریک بھائی کے لیے ہوگا، اور باقی ان کے درمیان برابر کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ نصف مال شوہر کے لیے ہے اور باقی مال ماں شریک بھائی کے لیے ہے۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور زید (رض) کی رائے مطابق چھ کے عدد سے نکلے گا جن میں سے تین حصّے ( یعنی آدھا مال) شوہر کے لئے، اور ماں شریک بھائی کے لیے چھٹا حصّہ ہوگا، اور دو حصّے باقی بچیں گے جو ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور حضرت ابن مسعود (رض) کے قول کے مطابق یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا جن میں سے نصف شوہر کے لیے اور باقی ماں شریک بھائی کے لیے ہوگا۔