(۳۱۷۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی رَجُلٍ تَرَکَ ابْنَتَیْہِ وَبَنِی ابْنِہِ رِجَالاً وَنِسَائً : فَلاِبْنَتَیْہِ الثُّلُثَانِ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلذُّکُورِ دُونَ الإِنَاثِ ، وَکَانَ عَبْدُ اللہِ لاَ یَزِیدُ الأَخَوَاتِ وَالْبَنَاتِ عَلَی الثُّلُثَیْنِ ، وَکَانَ عَلِیٌّ وَزَیْدٌ یُشَرِّکُونَ فِیمَا بَیْنَہُمْ ، فَمَا بَقِیَ {لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ}۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَسْہُمٍ فِی قَوْلِہِمْ جَمِیعًا۔
(٣١٧٤٣) حضرت فضیل حضرت ابراہیم نخعی (رض) سے روایت کرتے ہیں اس آدمی کے بارے میں جو اپنی دو بیٹیاں اور پوتے، پوتیاں چھوڑ کر مرے کہ اس کی دونوں بیٹیوں کے لیے دو تہائی مال ہے اور باقی مردوں کے لیے ہے نہ کہ عورتوں کے لیے اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بہنوں اور بیٹیوں کا حصہ دو تہائی سے زیادہ نہیں لگایا کرتے تھے اور حضرت علی (رض) اور حضرت زید (رض) آپس میں شریک بنایا کرتے تھے اور باقی مال اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ایک مرد کے لیے دو عورتوں کے حصّے کے برابر حصّہ لگایا جائے گا۔
امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ تمام حضرات کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا۔