(۳۱۷۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ الْفَضْلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَہْبًا یُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : شَہِدْت عُمَرَ أَشْرَکَ الإِخْوَۃَ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ مَعَ الإِخْوَۃِ مِنَ الأُمِّ فِی الثُّلُثِ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : قَدْ قَضَیْت فِی ہَذَہ عَامَ الأَوَّلِ بِغَیْرِ ہَذَا ، قَالَ : وَکَیْفَ قَضَیْت ؟ قَالَ : جَعَلْتہ لِلإِخْوَۃِ لِلأُمِّ وَلَمْ تَجْعَلْ لِلإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ شَیْئًا ، فَقَالَ : ذَلِکَ عَلَی مَا قَضَیْنَا ، وَہَذَا عَلَی مَا نَقْضِی۔ (عبدالرزاق ۱۹۰۰۵)
(٣١٧٤٤) حکم بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کے ساتھ ایک تہائی مال میں برابر شریک کیا، ان سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ نے اس جیسے ایک مسئلے میں گزشتہ سال کچھ اور فیصلہ دیا تھا، آپ نے پوچھا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ آپ نے مال ماں شریک بھائیوں کو دے دیا تھا اور حقیقی بھائیوں کو کچھ نہیں دیا تھا ، آپ نے فرمایا کہ وہ فیصلہ بھی اسی طرح درست تھا جس طرح ہم نے کیا تھا، اور یہ فیصلہ بھی اسی طرح درست ہے جس طرح ہم کر رہے ہیں۔