(۳۱۸۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ تَرَکَتْ زَوْجَہَا مُسْلِمًا وَإِخْوَتَہَا لأُمِّہَا مُسْلِمِینَ وَلَہَا ابْنٌ نَصْرَانِیٌّ ، أَوْ یَہُودِیٌّ ، أَوْ کَافِرٌ ، فَلِزَوْجِہَا النِّصْفُ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ وَلاِِخْوَتِہَا لأُمِّہَا الثُّلُثُ سَہْمَانِ ، وَمَا بَقِیَ فَلِذِی الْعَصَبَۃِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ ، وَلاَ یَرِثُ یَہُودِیٌّ ، وَلاَ نَصْرَانِیٌّ مُسْلِمًا، وَقَضَی فِیہَا عَبْدُ اللہِ : أَنَّ لِلزَّوْجِ الرُّبْعَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ لَہَا وَلَدًا کَافِرًا ، وَہُمْ یَحْجِبُونَ فِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ ، وَلاَ یَرِثُونَ ، وَفِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ : لاَ یَحْجُبُونَ وَلاَ یَرِثُونَ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْبَعَۃٍ۔
(٣١٨٣٦) فضیل حضرت ابراہیم سے اس مسلمان عورت کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو مسلمان شوہر اور مسلمان ماں شریک بھائیوں کو چھوڑ جائے، اور اس کا ایک نصرانی یا یہودی یا کافر بیٹا ہو کہ اس کے شوہر کے لیے آدھا مال یعنی تین حصّے ہیں اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لیے ایک تہائی مال یعنی دو حصّے ہیں، اور باقی مال حضرت علی (رض) اور زید (رض) کے فرمان کے مطابق عصبہ کے لیے ہے، اور یہودی یا نصرانی آدمی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا، اور اس مسئلہ میں حضرت عبداللہ (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ شوہر کے لیے ایک چوتھائی مال ہے اس وجہ سے کہ اس کا ایک کافر بیٹا ہے، اور حضرت عبداللہ (رض) کی رائے میں کافر رشتہ دار دوسروں کے حصّے کم کرسکتے ہیں لیکن خود وارث نہیں ہوتے، اور حضرت علی (رض) کی رائے میں نہ دوسروں کا حصّہ کم کرتے ہیں اور نہ خود وارث ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور زید (رض) کی رائے میں چھ حصّوں سے نکلے گا اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی رائے میں چار حصوں سے۔