(۳۱۸۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ فِی امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ تَرَکَتْ أُمَّہَا مُسْلِمَۃً وَلَہَا إخْوَۃٌ نَصَارَی أَوْ یَہُودٌ ، أَوْ کُفَّارٌ ، فَقَضَی عَبْدُ اللہِ : أَنَّ لَہَا مَعَہُمَ السُّدُسَ ، وَجَعَلَہُمْ یَحْجُبُونَ وَلاَ یَرِثُونَ ، وَقَضَی فِیہَا سَائِرُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَّہُمْ لاَ یَحْجُبُونَ وَلاَ یَرِثُونَ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہِیَ فِیمَا قَضَی سَائِرُ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرُ عَبْدِ اللہِ مِنْ أَرْبَعَۃِ أَسْہُمٍ ، فَہِیَ لِذِی الْعَصَبَۃِ ، وَہِیَ فِی قَضَائِ عَبْدِ اللہِ : مِنْ خَمْسَۃُ أَسْہُمٍ ، فَہِیَ لِذِی الْعَصَبَۃِ بِالرَّحِمِ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِہِمْ جَمِیعًا مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، إنْ کَانَ فِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : فَلِلأُمِّ السُّدُسُ وَیَبْقَی خَمْسَۃٌ ، وَإِنْ کَانَ فِی قَوْلِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَلِلأُمِّ الثُّلُثُ وَہُوَ سَہْمَانِ ، وَأَرْبَعَۃٌ لِسَائِرِ الْعَصَبَۃِ۔
(٣١٨٣٧) فضیل روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اس مسلمان عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو اپنی مسلمان ماں چھوڑ جائے، اور اس کے نصرانی، یہودی یا کافر بھائی ہوں، کہ حضرت عبداللہ (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لیے ان لوگوں کے ہوتے ہوئے چھٹا حصّہ ہے، اور آپ نے ان کو دوسروں کا حصّہ روکنے والا قرار دیا اور خود ان کو وارث نہیں بنایا، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باقی صحابہ نے اس مسئلہ کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ نہ دوسروں کے حصّے کو کم کرتے ہیں اور نہ خود وارث ہوتے ہیں۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دوسرے صحابہ کرام (رض) کے فیصلے کے مطابق چار حصّوں سے نکلے گا اور یہ عصبہ کا ہوگا اور حضرت ابن مسعود (رض) کے فیصلے کے مطابق پانچ حصّوں سے نکلے گا اور یہ رشتہ داری کی وجہ سے عصبہ بن جانے والے رشتہ داروں کے لیے ہے۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ ان تمام حضرات کے قول کے مطابق چھ حصّوں سے نکلے گا، حضرت عبداللہ (رض) کی رائے میں ماں کے لیے چھٹا حصّہ ہوگا اور باقی پانچ حصّے بچیں گے، اور باقی صحابہ (رض) کی رائے میں ماں کے لیے ایک تہائی مال یعنی دو حصّے ہیں اور بقیہ چار حصّے عصبہ کے لئے۔