(۳۱۸۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ زَوْجَہَا وَإِخْوَتَہَا لأُمِّہَا أَحْرَارًا ، وَلَہَا ابْنٌ مَمْلُوکٌ : فَلِزَوْجِہَا النِّصْفُ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلإِخْوَتِہَا لأُمِّہَا الثُّلُثُ سَہْمَانِ ، وَیَبْقَی السُّدُسُ فَہُوَ لِلْعَصَبَۃِ ، وَلاَ یَرِثُ ابْنُہَا الْمَمْلُوکُ شَیْئًا فِی قَضَائِ عَلِی۔
وَقَضَی فِیہَا عَبْدُ اللہِ : أَنَّ لِزَوْجِہَا الرُّبْعَ سَہْم وَنِصْف ، وَأَنَّ ابْنَہَا یَحْجُبُ الإِخْوَۃَ مِنَ الأُمِّ إذَا کَانَ مَمْلُوکًا، وَلاَ یَرِثُ ابْنُہَا شَیْئًا وَیَحْجُبُ الزَّوْجَ ، وَأَنَّ الثَّلاَثَۃَ أَرْبَاعٍ الْبَاقِیَۃِ لِلْعَصَبَۃِ۔
وَقَضَی فِیہَا زَیْدٌ : أَنَّ لِزَوْجِہَا النِّصْفَ ثَلاَثَۃَ أَسْہُمٍ ، وَأَنَّ لاِِخْوَتِہَا لأُمِّہَا الثُّلُثَ سَہْمَانِ ، وَمَا بَقِیَ فَہُوَ فِی بَیْتِ الْمَالِ إذَا لَمْ یَکُنْ ، وَلاَئٌ ، وَلاَ رَحِمٌ
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْبَعَۃِ أَسْہُمٍ۔
(٣١٨٣٨) حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنے شوہر اور اپنے آزاد ماں شریک بھائی کو چھوڑ کرمری جبکہ اس کا ایک غلام بیٹا بھی تھا، کہ اس کے شوہر کے لیے آدھا مال یعنی تین حصّے ہیں اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لیے ایک تہائی مال یعنی دو حصّے ہیں، اور چھٹا حصّہ جو باقی بچا وہ عصبہ کے لیے ہے، اور اس کا غلام بیٹا کسی چیز کا وارث نہ ہوگا حضرت علی (رض) کے فیصلے کے مطابق۔
اور اس مسئلے میں حضرت عبداللہ (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے شوہر کے لیے چوتھائی مال یعنی ڈیڑھ حصّہ ہے ، اور اس کا بیٹا ماں شریک بھائیوں کے حصّے کے لیے مانع ہوگا جبکہ وہ غلام ہو، اور شوہر کے حصّے کو کم کر دے گا، اور باقی تین چوتھائی مال عصبہ کے لیے ہے۔
اور اس مسئلے میں حضرت زید (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے شوہر کے لیے آدھا مال یعنی تین حصّے ہیں، اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لیے ایک تہائی مال یعنی دو حصّے ہیں، اور باقی مال بیت المال میں رکھا جائے گا جبکہ کوئی مولیٰ یا ذوی الأرحام میں سے کوئی رشتہ دار نہ ہو۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور زید (رض) کی رائے میں چھ حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی رائے میں چار حصّوں سے نکلے گا۔