(۳۱۸۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ أُخْتَہَا لأَبِیہَا وَأُمَّہَا وَأُخْتَہَا مِنْ أَبِیہَا ، وَلاَ عَصَبَۃَ لَہَا غَیْرُہُمَا : فَلأُخْتِہَا لأَبِیہَا وَأُمِّہَا ثَلاَثَۃُ أَرْبَاعٍ ، وَلأُخْتِہَا مِنْ أَبِیہَا الرُّبْعُ فِی قَضَائِ عَلِی ، وَقَضَی عَبْدُ اللہِ : أَنَّ لِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ خَمْسَۃَ أَسْہُمٍ ، وَلِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ السُّدُسُ ، وَقَضَی فِیہَا زَیْدٌ : أَنَّ لِلأُخْتِ لِلأَبِ وَالأُمِّ ثَلاَثَۃَ أَسْہُمٍ وَلِلأُخْتِ لِلأَبِ السُّدُسَ ، وَمَا بَقِیَ لِبَیْتِ الْمَالِ إذَا لَمْ یَکُنْ وَلاَئٌ وَلاَ عَصَبَۃٌ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ وَزَیْدٍ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ۔
(٣١٨٤٤) فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنی ایک حقیقی بہن اور ایک باپ شریک بہن چھوڑ جائے اور اس کا ان کے علاوہ کوئی عصبہ نہ ہو ، کہ اس کی حقیقی بہن کیلئے تین چوتھائی مال ہے، اور یہ حضرت علی (رض) کا فیصلہ ہے، اور حضرت عبداللہ (رض) نے اس مسئلہ میں یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حقیقی بہن کے لیے پانچ حصّے اور باپ شریک بہن کے لیے مال کا چھٹا حصّہ ہے، اور اس مسئلے میں حضرت زید (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حقیقی بہن کے لیے تین حصّے اور باپ شریک بہن کے لیے چھٹا حصّہ ہے اور باقی بیت المال کے لیے ہے جبکہ کوئی مولیٰ یا عصبہ نہ ہو۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی (رض) کے قول کے مطابق تین حصّوں سے نکلے گا اور حضرت عبداللہ اور زید (رض) کے قول میں چھ حصّوں سے نکلے گا۔