(۳۱۸۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتِ ابْنَتَہَا وَابْنَۃَ ابْنِہَا وَأُمَّہَا، وَلاَ عَصَبَۃَ لَہَا : فَلاِبْنَتِہَا ثَلاَثَۃُ أَخْمَاسٍ ، وَلاِبْنَۃِ ابْنِہَا خُمُسٌ ، وَلأُمِّہَا خُمُسٌ فِی قَضَائِ عَلِی ، وَقَضَی فِیہَا عَبْدُ اللہِ : أَنَّہَا مِنْ أَرْبَعَۃٍ وَعِشْرِینَ سَہْمًا : فَلاِبْنَۃِ الاِبْنِ مِنْ ذَلِکَ السُّدُسُ أَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلِلأُمِّ رُبْعُ مَا بَقِیَ خَمْسَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلِلاِبْنَۃِ ثَلاَثَۃُ أَرْبَاعِ عِشْرِینَ : خَمْسَۃَ عَشَرَ سَہْمًا ، وَقَضَی فِیہَا زَیْدٌ : لِلاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلاِبْنَۃِ الاِبْنِ السُّدُسُ وَلِلأُمِّ السُّدُسُ ، وَمَا بَقِیَ فَفِی بَیْتِ الْمَالِ إذَا لَمْ یَکُنْ وَلاَئٌ وَلاَ عَصَبَۃٌ۔
(٣١٨٤٥) حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیٹی ، پوتی اور ماں چھوڑ جائے اور اس کا کوئی عصبہ نہ ہو کہ اس کی بیٹی کے لیے مال کے پانچ حصّوں میں سے تین حصّے اور اس کی پوتی کے لیے مال کا پانچواں حصّہ اور اس کی ماں کے لیے بھی پانچواں حصّہ ہے، یہ حضرت علی (رض) کا فیصلہ ہے، اور اس بارے میں حضرت عبداللہ (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ یہ مسئلہ چوبیس حصّوں سے نکلے گا، پوتی کے لیے چھٹا حصّہ یعنی کل چار حصّے، ماں کے لیے باقی مال کا چوتھا حصّہ یعنی کل پانچ حصّے اور بیٹی کے لیے بیس حصّوں کا تین چوتھائی یعنی کل پندرہ حصّے ہوں گے، اور اس بارے میں حضرت زید (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ بیٹی کے لیے آدھا مال ہے ، اور پوتی کے لیے مال کا چھٹا حصّہ ، اور ماں کے لیے بھی چھٹا حصّہ ہے ، اور باقی مال بیت المال کے لیے ہے جبکہ نہ کوئی ولی ہو اور نہ کوئی عصبہ موجود ہو۔