(۳۱۸۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلأَعْمَشِ : لِمَ سُمِّیَت الأَکْدَرِیَّۃَ ؟ قَالَ : طَرَحَہَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ عَلَی رَجُلٍ یُقَالَ لَہُ : الأَکْدَرُ ، کَانَ یَنْظُرُ فِی الْفَرَائِضِ ، فَأَخْطَأَ فِیہَا ، فَسَمَّاہَا الأَکْدَرِیَّۃَ۔
قَالَ وَکِیعٌ : وَکُنَّا نَسْمَعُ قَبْلَ أَنْ یُفَسِّرَ سُفْیَانُ إنَّمَا سُمِّیَتِ الأَکْدَرِیَّۃَ ، لأَنَّ قَوْلَ زَیْدٍ تَکَدَّرَ فِیہَا ، لَمْ یُفَسِّر قَوْلَہُ۔
(٣١٨٩٣) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اعمش سے عرض کیا کہ اس مسئلے کو ” اکدریّہ “ کیوں کہا جاتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ عبد الملک بن مروان نے اس مسئلے کو ایک ” اکدر “ نامی آدمی سے پوچھا تھا، اس نے اس میں غلطی کی تو اس نے اس کو مسئلہ ” اکدریّہ “ کا نام دے دیا۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سفیان کی اس تشریح سے پہلے یہ سمجھتے تھے کہ اس مسئلے کا نام اکدریّہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ حضرت زید (رض) کا اس مسئلے کے بارے میں فرمان گرد آلود ہے، یعنی انھوں نے اپنی بات کی وضاحت نہیں فرمائی۔