hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31893

.

ابن أبي شيبة

31893
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۸۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ۔ وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَمَّنْ سَمِعَ الشَّعْبِیَّ قَالَ فِی أُمٍّ ، وَأُخْتٍ لأَبٍ وَأَمٍّ ، وَجَدٍّ : إنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ : مِنْ تِسْعَۃِ أَسْہُمٍ : لِلأُمِّ ثَلاَثَۃٌ ، وَلِلْجَدِّ أَرْبَعَۃٌ ، وَلِلأُخْتِ سَہْمَانِ۔ وَإِنَّ عَلِیًّا قَالَ : لِلأُخْتِ النِّصْفُ : ثَلاَثَۃٌ ، وَلِلأُمِّ الثُّلُثُ : سَہْمَانِ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلْجَدِّ وَہُوَ سَہْمٌ۔ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لِلأُخْتِ النِّصْفُ : ثَلاَثَۃٌ ، وَلِلأُمِّ السُّدُسُ : سَہْمٌ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلْجَدِّ وَہُوَ سَہْمَانِ۔ وَقَالَ عُثْمَان : أَثْلاَثًا : ثُلُثٌ لِلأُمِ ، وَثُلُثٌ لِلأُخْتِ ، وَثُلُثٌ لِلْجَدِّ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لِلأُمِّ الثُّلُثُ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلْجَدِّ۔ قَالَ وَکِیعٌ : وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : سَأَلَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ یُوسُفَ عنہا ؟ فَأَخْبَرْتہ بِأَقَاوِیلِہِمْ فَأَعْجَبَہُ قَوْلُ عَلِیٍّ ، فَقَالَ: قَوْلُ مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : قَوْلُ أَبِی تُرَابٍ ، فَفَطِنَ الْحَجَّاجُ ، فَقَالَ : إنَّا لَمْ نَعِبْ عَلَی عَلِیٍّ قَضَائِہِ ، إنَّمَا عِبْنَا کَذَا وَکَذَا۔
(٣١٨٩٤) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے ماں، حقیقی بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ ان کا مسئلہ نو حصّوں سے نکلے گا، تین حصّے ماں کے لئے، چار حصّے دادا کے لئے، اور دو حصّے بہن کے لئے، اور حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ نصف مال بہن کے لیے یعنی کل مال کے تین حصّے، اور ماں کے لیے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال، اور باقی مال یعنی ایک حصّہ دادا کے لیے ہوگا، اور حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ بہن کے لیے نصف مال یعنی تین حصّے، اور ماں کے لیے چھٹا حصّہ یعنی ایک حصّہ ، اور باقی مال داد ا کے لیے یعنی دو حصّے ہوں گے، اور حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ مال کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک تہائی ماں کے لئے، ایک تہائی بہن کے لیے اور ایک تہائی دادا کے لئے، اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ایک تہائی مال ماں کے لیے اور باقی مال دادا کے لیے ہوگا۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ شعبی نے فرمایا کہ حجّاج بن یوسف نے مجھ سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا تو میں نے اس کو ان حضرات کے اقوال بتلا دیے، اس کو حضرت علی (رض) کا قول بہت اچھا لگا، پوچھنے لگا کہ یہ کس کا قول ہے ؟ میں نے کہا : حضرت ابو تراب (رض) کا، اس پر حجّاج سنبھلا اور کہنے لگا کہ ہم حضرت علی (رض) کے فیصلے پر عیب نہیں لگاتے، ہم تو ان کی فلاں فلاں بات کو معیوب سمجھتے ہیں۔