(۳۱۹۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ زَوْجَہَا وَأُمَّہَا وَأَخَاہَا لأَبِیہَا وَجَدِّہَا : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلِلأُمِّ الثُّلُثُ سَہْمَانِ ، وَلِلْجَدِّ سَہْمٌ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ، وَلِلأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِیَ سَہْمٌ ، وَلِلْجَدِّ سَہْمٌ ، وَلِلأَخِ سَہْمٌ ، وَإِنْ کَانَا أَخَوَانِ أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ : فَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلأُمِّ سَہْمٌ ، وَلِلْجَدِّ سَہْمٌ ، وَبَقِیَ سَہْمٌ فَہُوَ لاِِخْوَتِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ وَعَبْدِ اللہِ۔
(٣١٩٠٥) حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے شوہر، ماں، باپ شریک بھائی اور دادا کو چھوڑ جائے کہ حضرت علی اور زید (رض) کے فرمان کے مطابق شوہر کو آدھا مال یعنی تین حصّے، ماں کو ایک تہائی مال یعنی دو حصّے اور دادا کو ایک حصّہ دیا جائے گا، اور حضرت عبداللہ (رض) کے فرمان میں شوہر کے لیے آدھا مال ، ماں کے لیے بقیہ مال کا ایک تہائی ، دادا کے لیے ایک حصّہ اور ایک حصّہ بھائی کے لیے ہے، اور اگر بھائی دو یا دو سے زیادہ ہوں تو شوہر کے لیے آدھا مال اور ماں اور دادا کے لیے ایک ایک حصّہ ہے، اور ایک حصّہ جو باقی بچے گا بھائیوں میں تقسیم کردیا جائے گا، یہ حضرت علی، زید اور عبداللہ (رض) کا قول ہے۔