(۳۱۹۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَتَیْنَا شُرَیْحًا فَسَأَلْنَاہُ عَنْ زَوْجٍ ، وَأَمٍّ ، وَأَخٍ، وَجَدٍّ ؟ فَقَالَ : لِلْبَعْلِ الشَّطْرُ ، وَلِلأُمِّ الثُّلُثُ ، ثُمَّ سَکَتَ ، ثُمَّ قَالَ الَّذِی عَلَی رَأْسِہِ : أَنَّہُ لاَ یَقُولُ فِی الْجَدِّ شَیْئًا ، قَالَ : فَأَتَیْنَا عَبِیدَۃَ فَقَسَمَہَا مِنْ سِتَّۃٍ فِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ ، فَأَعْطَی الزَّوْجَ ثَلاَثَۃً ، وَالأُمَّ سَہْمًا ، وَالْجَدَّ سَہْمًا ، وَالأَخَ سَہْمًا۔
فَہَذِہِ فِی قَوْلِہِمْ جَمِیعًا مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ۔
(٣١٩٠٦) ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ہم حضرت شریح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے شوہر، ماں، بھائی اور دادا کے مسئلے کے بارے میں دریافت کیا ، آپ نے فرمایا شوہر کے لیے نصف مال ہے اور ماں کے لیے ایک تہائی مال، پھر آپ خاموش ہوگئے تو اس شخص نے جو آپ کے سرہانے کھڑا تھا کہا کہ حضرت دادا کے لیے کسی چیز کے قائل نہیں ہیں، فرماتے ہیں کہ پھر ہم حضرت عَبِیدہ کے پاس آئے تو انھوں نے حضرت عبداللہ (رض) کے فرمان کے مطابق مال کو چھ حصّوں میں تقسیم فرمایا، تین حصّے شوہر کو دیے اور ایک ایک حصّہ ماں، دادا اور بھائی کو دیا۔
اس طرح یہ مسئلہ تمام حضرات کی رائے کے مطابق چھ حصّوں سے ہی نکلے گا۔