(۳۱۹۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ : فِی رَجُلٍ تَرَکَ جَدَّہُ ، وَأُخْتَہ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ، وَأَخَاہُ لأَبِیہِ ، فَلِلْجَدِّ فِی قَضَائِ زَیْدٍ الْخُمُسَانِ مِنْ عَشَرَۃٍ ، أَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلأُخْتِہِ مِنْ أَبِیہِ وَأُمِّہِ النِّصْفُ ، خَمْسَۃٌ ، وَلأَخِیہِ لأَبِیہِ سَہْمٌ ، یَرُدُّ الأَخُ مِنَ الأَبِ فِی قَضَائِ زَیْدٍ عَلَی الأُخْت مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ کَانَ لَہَا ثَلاَثَۃُ أَخْمَاسِ الْمَالِ فَأُعْطِیَتَ النِّصْفُ مِنْ أَجْلِ أَنَّ ثَلاَثَۃَ أَخْمَاسٍ أَکْثَرُ مِنَ النِّصْفِ ، وَلَیْسَ لِلأُخْتِ الْوَاحِدۃ وَإِنْ قَاسَمَہَا أَکْثَرَ مِنَ النِّصْفِ۔
وَکَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ یُعْطِی الأُخْتَ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ النِّصْفَ ، وَالْجَدَّ النِّصْفَ ، وَلاَ یَعْتَدُّ بِالأُخْوَۃِ مِنَ الأَبِ مَعَ الأخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِ۔
وَکَانَ عَلِیٌّ یَجْعَلُ لِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ النِّصْفَ ، وَیَقْسِمُ النِّصْفَ الْبَاقِی بَیْنَ الأُخْوَۃِ وَالْجَدِّ ، الْجَدُّ کَأَحَدِہِمْ مَا لَمْ یَکُنْ نَصِیبُ الْجَدِّ أَقَلَّ مِنَ السُّدُسِ ، إِنْ کَانَ أَخٌ وَاحِدٌ فَالنِّصْفُ الَّذِی بَقِیَ بَیْنَہُمَا ، وَإِنْ کَانَا أَخَوَیْنِ فَالنِّصْفُ بَیْنَہُمَا ، وَإِنْ کَانُوا ثَلاَثَۃٌ ، فَلِلْجَدِّ السُّدُسِ ، وَمَا بَقِیَ فَلِلأُخْوَۃِ۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَہَذِہِ فِی قَوْلِ زَیْدٍ مِنْ عَشَرَۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : مِنْ سَہْمَیْنِ ، وَکَانَ عَلِیٌّ یَجْعَلُہَا مِنْ سِتَّۃٍ إذَا کَثُرَ الأُخْوَۃُ۔
(٣١٩٠٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو آدمی اپنے دادا، حقیقی بہن اور باپ شریک بھائی کو چھوڑ جائے تو حضرت زید (رض) کے فیصلے کے مطابق دادا کے لیے مال کے دو پانچویں حصّے یعنی دس حصّوں میں سے چار حصّے اور اس کی حقیقی بہن کے لیے آدھا مال یعنی پانچ حصّے اور اس کے باپ شریک بھائی کے لیے ایک حصّہ ہے، حضرت زید (رض) کے فیصلے میں باپ شریک بھائی حقیقی بہن پر لوٹائے گا، اس کا حق مال کے تین پانچویں حصّے تھا پس اس کو نصف مال دے دیا گیا اس لیے کہ مال کے تین پانچویں حصّے آدھے مال سے زیادہ ہوتے ہیں اور ایک بہن کا حصّہ آدھے مال سے زیادہ نہیں، چاہے بھائی اس کے ساتھ شریک ہوجائے۔
اور حضرت ابن مسعود (رض) حقیقی بہن کو آدھا مال اور دادا کو آدھا مال دیا کرتے تھے اور حقیقی بھائیوں اور بہنوں کے ہوتے ہوئے باپ شریک بھائیوں اور بہنوں کو کچھ نہیں دلاتے تھے،
اور حضرت علی (رض) حقیقی بہن کو آدھا مال دیتے اور بقیہ آدھا مال بھائیوں اور دادا کے درمیان تقسیم کردیتے، اس طرح کہ دادا بھائیوں کا ایک فرد سمجھا جاتا، جب تک دادا کا حصّہ چھٹے حصّے سے کم نہ ہو، اگر بھائی ایک ہو تو باقی آدھا مال دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اور اگر دو ہوں تو نصف مال ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اور اگر تین ہوں تو دادا کے لیے مال کا چھٹا حصّہ اور بقیہ مال بھائیوں کے لیے ہے۔
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت زید (رض) کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے اور حضرت عبداللہ (رض) کے قول میں دو حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت علی (رض) اس مسئلے کو چھ حصّوں سے نکالا کرتے تھے جبکہ بھائی زیادہ ہوں۔