(۳۱۹۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَسَّامٍ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ : فِی امْرَأَۃٍ تَرَکَتْ أُمَّہَا ، وَأُخْتَہَا لأَبِیہَا وَأُمِّہَا ، وَأَخَاہَا لأَبِیہَا ، وَجَدَّہَا ، قَضَی فِیہَا زَیْدٌ : أَنَّ لِلأُمِّ السُّدُسَ ، وَلِلْجَدِّ خُمُسَا مَا بَقِی ، وَلِلأُخْتِ ثَلاَثَۃُ أَخْمَاسِ مَا بَقِی ، رَدَّ الأَخُ عَلَی أُخْتِہِ وَلَمْ یَرِثْ شَیْئًا ، وَقَضَی فِیہَا عَبْدُ اللہِ : أَنَّ لِلأُخْتِ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلِلأُمِّ سَہْمٌ ، وَلِلْجَدِّ سَہْمٌ ، وَقَضَی فِیہَا عَلِیٌّ : أَنَّ لِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ ، وَلِلأُمِّ سَہْماً ، وَبَقِیَ سَہْمَانِ : لِلْجَدِّ سَہْمٌ ، وَلِلأَخِ سَہْمٌ۔
فَہَذِہِ فِی قَوْلِ عَلِیٍّ وَزَیْدٍ مِنْ سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَفِی قَوْلِ عَبْدِ اللہِ مِنْ خَمْسَۃٍ۔
(٣١٩٠٩) حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنی ماں ، حقیقی بہن، باپ شریک بھائی اور دادا کو چھوڑ جائے کہ اس کے بارے میں حضرت زید (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ماں کے لیے مال کا چھٹا حصّہ ، دادا کے لیے بقیہ مال کے دو پانچویں حصّے اور بہن کے لیے بقیہ مال کے تین پانچویں حصّے ہیں، بھائی نے اپنی بہن پر مال لوٹا دیا مگر وہ خود کسی چیز کا وارث نہ ہوگا، اور اس بارے میں حضرت عبداللہ (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بہن کے لیے تین حصّے ، ماں کے لیے ایک حصّہ اور دادا کے لیے بھی ایک حصّہ ہے، اور حضرت علی (رض) اس مسئلے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حقیقی بہن کے لیے تین حصّے اور ماں کے لیے ایک حصّہ ہے، اور دو حصّے باقی بچے جن میں سے ایک حصّہ دادا کے لیے اور ایک بھائی کے لیے ہے۔
اس طرح یہ مسئلہ حضرت علی (رض) اور زید (رض) کے فرمان کے مطابق چھ حصّوں سے اور حضرت عبداللہ (رض) کے فرمان میں پانچ حصّوں سے نکلے گا۔