(۳۲۲۹۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَیَّارٌ ، أَخْبَرَنَا یَزِیدُ الْفَقِیرُ ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِیت خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ صِرْت بِالرُّعْبِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ فَلِیُصَلِ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ ، وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْت إلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔
(٣٢٢٩٩) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں جو کسی کو نہیں دی گئیں مجھے ایک مہینہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے مدد دی گئی، اور زمین میرے لیے پاک اور نماز کی جگہ بنائی گئی، پس میری امت کے جس آدمی پر نماز کا وقت جہاں بھی آجائے پڑھ لے، اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں، اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئیں، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی، اور پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔