(۳۲۳۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ وَمِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِیت خَمْسًا ، وَلاَ أَقُولُہُ فَخْرًا : بُعِثْت إلَی الأَحْمَرِ وَالأَسْوَد ، وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّ لِی المنغنم وَلَمْ یحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَنُصِرْت بِالرُّعْبِ ، فَہُوَ یَسِیرُ أَمَامِی مَسِیرَۃَ شَہْرٍ، وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتہَا لأُمَّتِی إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَہِیَ نَائِلَۃٌ إنْ شَائَ اللَّہُ مَنْ لَمْ یُشْرِکْ بِاللہِ شَیْئًا۔
(٣٢٣٠٠) ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں، اور میں ان کو فخر سے بیان نہیں کرتا ، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا، اور میرے لیے زمین کو پاک اور نماز کی جگہ بنایا گیا، اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا، جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، کہ وہ میرے آگے ایک مہینہ دور کی مسافت تک چلتا ہے، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور میں نے اس کو اپنی امت کے لیے قیامت کے دن تک مؤخر کردیا، اور ان شاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔