(۳۲۳۰۶) حَدَّثَنَا محمد بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَتْ لَنَا تُرْبَتُہَا إذَا لَمْ نَجِدَ الْمَائَ طَہُورًا ، وَأُوتِیت ہَذِہِ الآیَاتِ مِنْ بَیْتِ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، لَمْ یُعْطَ مِنْہُ أَحَدٌ قَبْلِی ، وَلاَ یُعْطَی منہ أَحَدٌ بَعْدِی۔
(٣٢٣٠٦) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں عطا کی گئیں ہیں، ہمارے لیے پوری زمین نماز کی جگہ بنادی گئی ہے، اور ہمارے لیے اس کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ہے جبکہ ہم پانی کو نہ پائیں، اور یہ آیات مجھے عرش کے نیچے خزانے کے کمرے سے عطا کی گئی ہیں یعنی سورة بقرہ کی آخری آیات ، اس میں سے مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی۔