(۳۲۳۰۷) حَدَّثَنَا مالک بن إسْمَاعِیلَ ، عَنْ مِنْدَلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : خَرَجْت فِی طَلَبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتہ یُصَلِّی ، فَانْتَظَرْتہ حَتَّی صَلَّی ، فَقَالَ : أُوتِیت اللَّیْلَۃَ خَمْسًا لَمْ یُؤْتَہُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِی : نُصِرْت بِالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ مِنْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ ، وَأُرْسِلْت إلَی الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ ، وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی ، وَقِیلَ : سَلْ تُعْطَہُ ، فَاخْتَبَأْتُہَا ، فَہِیَ نَائِلَۃٌ مِنْکُمْ مَنْ لَمْ یُشْرِکْ بِاللہِ۔
(٣٢٣٠٧) حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں نکلا تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ، پس میں آپ کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے نماز پڑھ لی، پھر آپ نے فرمایا : مجھے اس رات پانچ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں ، میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، پس دشمن ایک مہینے کی مسافت پر مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، اور مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، اور میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اور نماز کی جگہ بنادیا گیا ہے، اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا، اور کہا گیا کہ آپ سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا ، میں نے اس کو ذخیرہ کرلیا، پس یہ تم میں سے ہر اس شخص کو پہنچنے والا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا۔