(۳۲۳۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قلْت : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا آنِیَۃُ الْحَوْضِ ؟ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَنِیَتُہُ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَائِ وَکَوَاکِبِہَا فِی اللَّیْلَۃِ الْمُظْلِمَۃِ الْمُصْحِیَۃِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْہَا لَمْ یَظْمَا ، عَرْضُہُ مِثْلُ طُولِہِ مَا بَیْنَ عُمَانَ إلَی أَیْلَۃَ ، مَاؤُہُ أَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ۔ (مسلم ۱۷۹۸۔ احمد ۱۴۹)
(٣٢٣٢٩) حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ 5! حوض کے برتن کیسے ہوں گے ؟ فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں، اور اس کے ستاروں سے مراد صاف آسمان والی رات کے ستارے ہیں، جس نے اس سے پی لیا وہ پیاسا نہ ہوگا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کی طرح عمان سے أیلہ کی درمیانی مسافت جتنی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔