(۳۲۳۳۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَنَا عِنْدَ عُقْرِ حَوْضِی أَذُودُ عَنْہُ النَّاسَ لأَہْلِ الْیَمِینِ إنِّی لاَضْرِبُہُمْ بِعَصَایَ حَتَّی تَرْفَضَّ ، قَالَ : فَسُئِلَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ سِعَۃِ الْحَوْضِ ؟ فَقَالَ : ہُوَ مَا بَیْنَ مَقَامِی ہَذَا إلَی عَمَّانَ ، مَا بَیْنَہُمَا شَہْرٌ أَوْ نَحْوُ ذَلِکَ، فَسُئِلَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابِہِ ؟ فَقَالَ : أَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ ، یَصُبُّ فِیہِ مِیزَابَانِ مِدَادُہُ ، أَوْ مِدَادُہُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ أَحَدُہُمَا وَرِقٌ وَالآخَرُ ذَہَبٌ۔ (مسلم ۱۷۹۹۔ احمد ۲۷۵)
(٣٢٣٣٠) حضرت ثوبان، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں اپنے حوض کے پانی پینے کی جگہ ہوں گا، اور اہل یمن کے لیے لوگوں کو دور ہٹاؤں گا یہاں تک کہ لوگ چھٹ جائیں گے، اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حوض کی وسعت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ میری اس جگہ سے عمّان کی درمیانی مسافت تک ہے، ان دونوں علاقوں کے درمیان ایک ماہ یا اس کے قریب مسافت ہے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گریں گے جن کا بہاؤ جنت سے ہوگا، ایک پرنالہ چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہوگا۔