(۳۲۳۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُدْعَی نُوحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ : ہَلْ بَلَّغْت ؟ فَیَقُولُ : نَعَمْ ، فَیُدْعَی قَوْمُہُ فَیُقَالُ : ہَلْ بَلَّغَکُمْ ؟ فَیَقُولُونَ : مَا أَتَانَا مِنْ نَذِیرٍ ، وَمَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ ، قَالَ : فَیُقَالُ لِنُوحٍ : مَنْ یَشْہَدُ لَک ؟ فَیَقُولُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہُ ، قَالَ : فَذَلِکَ قَوْلُہُ {وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا} ، قَالَ : الْوَسَطُ الْعَدْلُ ، قَالَ : فَیُدْعَوْنَ فَیَشْہَدُونَ لَہُ بِالْبَلاَغِ ، قَالَ : ثُمَّ أَشْہَدُ عَلَیْکُمْ بَعْدُ۔ (بخاری ۳۳۳۹۔ ترمذی ۲۹۶۱)
(٣٢٣٤٢) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ کیا انھوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ، اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا کہ تمہارے لیے کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت، فرمایا کہ یہ معنی ہے اللہ کے فرمان { وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا } کا ” الوسط “ کا معنی ہے معتدل ، فرماتے ہیں کہ وہ ان کے لیے پیغام پہنچانے کی گواہی دیں گے، فرمایا کہ پھر میں اس کے بعد تمہارے لیے گواہی دوں گا۔