(۳۲۳۵۲) حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عُصَیْمٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی أَسْمَائَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ اللَّہَ زَوَی لِی الأَرْضَ فَرَأَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا ، وَإِنَّ أُمَّتِی سَیَبْلُغُ مُلْکُہَا مَا زُوِیَ لِی مِنْہَا ، وَأُعْطِیت الْکَنْزَیْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْیَضَ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَسَمِعْتہ مَرَّۃً وَاحِدَۃً یَقُولُ : فَأَوَّلْتہَا مُلْکَ فَارِسٍ وَالرُّومِ وَإِنِّی سَأَلْت رَبِّی لأُمَّتِی أَنْ لاَ یُہْلِکَہَا بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ ، وَلاَ یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِہِمْ ، یَسْتَبِیحُ بَیْضَتَہُمْ ، وَإِنَّ رَبِّی قَالَ لِی : یَا مُحَمَّدُ ، إنِّی إذَا قَضَیْت قَضَائً فَإِنَّہُ لاَ یُرَدُ ، وَإِنِّی أُعْطِیک لأُمَّتِکَ أَنْ لاَ أُہْلِکَہَا بِسَنَۃٍ بعَامَّۃٍ ، وَلاَ أُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیحُ بَیْضَتَہُمْ ، وَلَوْ أَجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مَنْ بَیْنِ أَقْطَارِہَا ، أَوَ قَالَ : مِنْ أَقْطَارِہَا۔ (مسلم ۲۲۱۵۔ ابوداؤد ۴۲۴۹)ق
(٣٢٣٥٢) حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھے، اور میری امت کی حکومت وہاں تک جائے گی جہاں تک میرے لیے لپیٹا گیا ، اور مجھے دو خزانے دیے گئے، سرخ وسفید ، حماد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے راوی کو یہ کہتے سنا کہ ” میں نے اس کی تعبیر ملک فارس اور روم سے لی، اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اور ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ فرمانا جوا ان کو جڑ سے ختم کر دے ، اور میرے رب نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد ! جب میں کوئی فیصلہ کردیتا ہوں تو وہ رد نہیں کیا جاسکتا، اور میں نے آپ کی یہ دعا قبول کرلی کہ ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور ان پر غیروں میں سے کوئی دشمن مسلّط نہیں کروں گا جو ان کو جڑ سے ختم کر دے ، اگرچہ ان پر پوری طاقت جمع کر کے حملہ آور ہو۔