(۳۲۳۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُثْمَان بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ یَوْمٍ مِنَ الْعَالِیَۃِ حَتَّی إذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِی مُعَاوِیَۃَ قَالَ : دَخَلَ فَرَکَعَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، وَدَعَا رَبَّہُ طَوِیلاً ، ثُمَّ انْصَرَفَ إلَیْنَا ، فَقَالَ : سَأَلْتُ رَبِّی ثَلاَثًا ، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً ، سَأَلْت رَبِّی أَنْ لاَ یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالسَّنَۃِ فَأَعْطَانِیہَا ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لاَ یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِیہَا ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لاَ یَجْعَلَ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْ فَرُدَّت عَلَیَّ۔
(٣٢٣٥٣) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن عوالی مدینہ سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب مسجد بنی معاویہ سے گزرے تو اس میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھیں اور آپ نے اللہ سے طویل دعا مانگی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی، دو اللہ نے قبول فرما لیں اور ایک کے قبول کرنے سے انکار فرما دیا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے ، اللہ نے اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے عذاب سے ہلاک نہ فرمائے، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان کو آپس میں لڑنے سے بچا لے، اس دعاء کو رد فرما دیا۔