(۳۲۳۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُنْتُہِیَ بِہِ إلَی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی وَہِیَ فِی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، وَإِلَیْہَا یَنْتَہِی مَا یُخْرَجُ بِہِ مِنَ الأَرْضِ ، فَیُقْبَضُ مِنْہَا ، وَإِلَیْہَا یَنْتَہِی مَا یُہْبَطُ بِہِ مِنْ فَوْقِہَا ، فَیُقْبَضُ مِنْہَا {إذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی} ، قَالَ : فَرَاشٌ بِہِ مِنْ ذَہَبٍ ، قَالَ : فَأُعْطِیَ ثَلاَثًا : أُعْطِیَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَأُعْطِیَ خَوَاتِیمَ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، وَغُفِرَ لِمَنْ لاَ یُشْرِکُ بِاللہِ مِنْ أُمَّتِہِ الْمُقْحِمَاتُ۔
(مسلم ۲۷۹۔ احمد ۳۸۷)
(٣٢٣٥٥) مُرّہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج کروائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، جو چھٹے آسمان میں ہے، اور اسی تک وہ اعمال پہنچتے ہیں جو زمین سے لائے جاتے ہیں، اور وہاں سے ان سے لے لیے جاتے ہیں، اور اسی تک وہ چیزیں پہنچتی ہیں جو اوپر سے اتاری جاتی ہیں اور اس جگہ لے لی جاتی ہیں، {إذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی } کا معنی ہے کہ سونے کی تتلیاں اس کو ڈھانپ لیتی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہاں آپ کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات، اور آپ کی امت کے شرک نہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔