(۳۲۳۵۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : لَمَّا أُسْرِیَ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَہَی طَرْفِہِ ، یُقَالُ لَہُ : الْبُرَاقُ ، وَمَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعِیرٍ لِلْمُشْرِکِینَ فَنَفَرَتْ ، فَقَالُوا : یَا ہَؤُلاَئِ ، مَا ہَذَا ؟ قَالُوا : مَا نَرَی شَیْئًا ، مَا ہَذِہِ إلاَّ رِیحٌ ، حَتَّی أَتَی بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، فَأُتِیَ بِإِنَائَیْنِ فِی وَاحِدٍ خَمْرٌ وَفِی الآخَرِ لَبَنٌ ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَہُ جِبْرِیلُ : ہُدِیت وَہُدِیَتْ أُمَّتُک۔ ثُمَّ سَارَ إلَی مِصْرَ۔
(٣٢٣٥٧) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج کروائی گئی تو آپ کے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، وہ اپنا پاؤں وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہاء ہوتی اس کا نام براق تھا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے ایک قافلے کے پاس سے گزرے، وہ اونٹ بدک گئے، وہ کہنے لگے یہ کیا ہے ؟ دوسروں نے جواب دیا کہ ہم کو تو کچھ نظر نہیں آرہا، یہ تو ایک ہوا ہی تھی، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچ گئے، پھر آپ کے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا، آپ نے دودھ کو لیا، جبرائیل نے کہا کہ آپ کو ہدایت دی گئی اور آپ کی امت کو بھی ہدایت دی گئی، پھر آپ مصر کی طرف چلے۔