hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32357

.

ابن أبي شيبة

32357
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۳۵۸) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ أُسْرِیَ بِی ، وَأَصْبَحْتُ بِمَکَّۃَ ، فَظِعْتُ بِأَمْرِی ، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُکَذِّبِی ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعْتَزِلاً حَزِینًا ، فَمَرَّ بِہِ أَبُو جَہْلٍ فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ إلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ کَالْمُسْتَہْزِئِ : ہَلْ کَانَ مِنْ شَیْئٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَ : إنِّی أُسْرِیَ بِی اللَّیْلَۃَ ، قَالَ : إلَی أَیْنَ ؟ قَالَ : إلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : ثُمَّ أَصْبَحْت بَیْنَ أظْہُرِنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمْ یُرِہِ أنَّہُ یُکَذِّبُہُ مَخَافَۃَ أَنْ یَجْحَدَ الْحَدِیثَ إنْ دَعَا قَوْمَہُ إلَیْہِ، قَالَ: أَتُحَدِّثُ قَوْمَک مَا حَدَّثْتنِی إنْ دَعَوْتُہُمْ إلَیْک؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: ہَیَّا یَامَعْشَرَ بَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ ہَلُمَّ ، قَالَ : فَتَنَفَّضَتِ الْمَجَالِسُ ، فَجَاؤُوا حَتَّی جَلَسُوا إلَیْہِمَا ، فَقَالَ لَہُ : حَدِّثْ قَوْمَک مَا حَدَّثْتنِی ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی أُسْرِیَ بِی اللَّیْلَۃَ ، قَالُوا : إلَی أَیْنَ ؟ قَالَ : إلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالُوا : ثُمَّ أَصْبَحْت بَیْنَ ظَہْرَانِینَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبَیْنَ مُصَفِّقٍ وَبَیْنَ وَاضِعٍ یَدَہُ عَلَی رَأْسِہِ مُتَعَجِّبًا لِلْکَذِبِ - زَعَمَ -! وَقَالُوا لِی : أَتَسْتَطِیعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ ؟ قَالَ : وَفِی الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إلَی ذَلِکَ الْبَلَدِ وَرَأَی الْمَسْجِدَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَذَہَبْت أَنْعَتُ لَہُمْ ، فَمَا زِلْت أَنْعَتُ لَہُمْ وَأَنْعَتُ حَتَّی الْتَبَسَ عَلَیَّ بَعْضُ النَّعْتِ ، فَجِیئَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ إلَیْہِ حَتَّی وُضِعَ دُونَ دَارِ عَقِیْلٍ - أَوْ دَارِ عِقَاْل - ، فَنَعَتُّہُ وَأَنَا أَنْظُرُ إلَیْہِ ، فَقَالَ : الْقَوْمُ : أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللہِ قَدْ أَصَابَ۔ (نسائی ۱۱۲۸۵۔ احمد ۳۰۹)
(٣٢٣٥٨) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب معراج کی رات ہوئی اور میں نے مکہ میں صبح کی تو میں اپنے معاملے میں حیران ہوگیا اور مجھے لگا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکیلے غمزدہ بیٹھ گئے، چنانچہ ابو جہل آپ کے پاس سے گزرا تو آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا، اور آپ سے مذاق کے انداز میں کہا کہ کیا کچھ ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! اس نے کہا کیا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے آج رات معراج کروائی گئی، اس نے کہا کہاں کی ؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر صبح آپ ہمارے پاس پہنچ گئے ؟ فرمایا جی ہاں ! اس نے تکذیب ظاہر نہ کی اس خوف سے کہ اگر وہ اپنی قوم کو آپ کے پاس بلائے گا تو کہیں آپ انکار نہ کردیں، چنانچہ اس نے کہا اے بنو کعب بن لؤیّ کی جماعت ! آؤ ، چنانچہ مجلس چھٹ گئی اور وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، اس نے آپ سے کہا کہ اپنی قوم کو بھی وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے مجھے بیان کی تھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج رات مجھے معراج کروائی گئی، انھوں نے کہا کہاں کی ؟ آپ نے فرمایا بیت المقدس کی ، وہ کہنے لگے پھر صبح کے وقت آپ ہمارے پاس پہنچ گئے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! کہتے ہیں کہ بعض تالیاں پیٹنے لگے اور بعض نے تعجب سے اپنے سر پر ہاتھ رکھا، اور مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں مسجد کی صفت بیان کرسکتے ہیں ؟ اور لوگوں میں سے بعض نے اس شہر کا سفر کیا ہوا تھا اور مسجد کو دیکھا ہوا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ان کو صفت بیان کرنے لگا، یہاں تک کہ بعض صفات میں مجھے شک ہوگیا، چنانچہ مسجد کو میرے سامنے لایا گیا جبکہ میں اس کو دیکھ رہا تھا، اور دار عقیل یا دار عقال کے سامنے رکھ دی گئی، میں اس کو دیکھ کر اس کی صفت بیان کرنے لگا، لوگ کہنے لگے کہ صفت تو بخدا بالکل درست ہے۔