(۳۲۳۶۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تُوُفِّیَ - أَوِ اُسْتُشْہِدَ - عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، فَاسْتَعَنْتُ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی غُرَمَائِہِ أَنْ یَضَعُوا مِنْ دَیْنِہِمْ شَیْئًا ، فَأَبَوْا ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اذْہَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَک أَصْنَافًا ، ثُمَّ أَعْلِمْنِی ، قَالَ : فَفَعَلْت فَجَعَلْتُ الْعَجْوَۃَ عَلَی حدَۃٍ ، وَصَنَّفْتہ أَصْنَافًا ، ثُمَّ أَعْلَمْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَجَائَ فَقَعَدَ عَلَی أَعْلاَہُ ، أَوْ فِی وَسَطِہِ ، ثُمَّ قَالَ : کِلْ لِلْقَوْمِ ، فَکِلْتُ لَہُمْ حَتَّی وَفَّیْتُہُمْ ، وَہِیَ تَمْرِی ، کَأَنَّہُ لَمْ یَنْقُصْ مِنْہُ شَیْئٌ۔ (بخاری ۲۱۲۷۔ احمد ۳۱۳)
(٣٢٣٦٨) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام فوت ہوئے، یا فرمایا کہ شہید ہوئے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے قرض خواہوں پر مدد چاہی کہ وہ اپنے قرضے سے کچھ چھوڑ دیں، انھوں نے انکار کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ڈھیریاں لگاؤ اور پھر مجھے بتاؤ، کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اور عجوہ کو علیحدہ کیا اور علیحدہ علیحدہ ڈھیریاں لگا دیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا، کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور ان کے اوپر کی طرف یا ان کے درمیان میں بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ لوگوں کے لیے وزن کرو، میں نے وزن کیا یہاں تک کہ ان کو پورا پورا دے دیا، اور میری کھجوروں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔