(۳۲۳۸۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلِمَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : کُلَّ شَیْئٍ أُوتِیَ نَبِیُّکُمْ إلاَّ مَفَاتِیحَ الْخَمْسِ {إنَّ اللَّہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ ، وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ، وَیَعْلَمُ مَا فِی الأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا} الآیَۃَ کُلہَا۔
(بخاری ۱۰۳۹۔ احمد ۳۸۶)
(٣٢٣٨٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی کو ہر چیز دی گئی سوائے پانچ چیزوں کی کنجیوں کے، { اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔ ترجمہ : بیشک قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے۔ یہی بارش برساتا ہے۔ وہی جانی ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے۔ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔