(۳۲۳۸۴) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی رَجَائٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَیْنِ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَشَکَا النَّاسُ إلَیْہِ الْعَطَشَ، فَدَعَا فُلاَنًا وَدَعَا عَلِیًّا : فَقَالَ اذْہَبَا فَابْغِیَا لَنَا الْمَائَ ، فَانْطَلَقَا فَتَلَقَّیَا امْرَأَۃً مَعَہَا مَزَادَتَانِ ، أَوْ سَطِیحَتَانِ ، قَالَ : فَجَائَا بِہَا إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِنَائٍ فَأَفْرَغَ فِیہِ مِنْ أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ ، أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ، ثُمَّ أَوْکَأَ أَفْوَاہَہُمَا ، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِی ، وَنُودِیَ فِی النَّاسِ : أَنَ اسْقُوا وَاسْتَقُوا ، قَالَ : فَسَقَی مَنْ سَقَی ، وَاسْتَقَی مَنِ اسْتَقَی ، قَالَ : وَہِیَ قَائِمَۃٌ تَنْظُرُ إلَی مَا یُصْنَعُ بِمَائِہَا ، قَالَ : فَوَاللہِ لَقَدْ أُقْلِعَ عنہا حِینَ أُقْلِعَ ، وَإِنَّہُ لَیُخَیَّلُ إلَیْنَا أَنَّہَا أَشَدُّ مِلأۃً مِنْہَا حِیثُ ابْتَدَأَ فِیہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَاللہِ مَا رَزَأْنَاک مِنْ مَائِکَ شَیْئًا وَلَکِنَّ اللَّہَ سَقَانَا۔ (بخاری ۳۴۴۔ مسلم ۴۷۶)
(٣٢٣٨٤) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگوں کو پیاس کی شکایت ہوئی ، آپ نے فلاں کو اور علی کو بلایا ، اور فرمایا کہ جاؤ اور ہمارے لیے پانی تلاش کرو، چنانچہ وہ چلے اور انھیں ایک عورت ملی جس کے پاس دو مٹکے یا مشکیزے تھے، وہ اس عورت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک برتن منگایا اور اس میں مشکیزوں یا مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا پھر ان کے منہ بند کردیے اور رسّی چھوڑی، اور لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ پانی لے لو اور بھر لو، چنانچہ جس نے پینا تھا پی لیا اور جس نے بھرنا تھا بھر لیا، اور وہ کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کا کیا کیا جار ہا ہے، کہتے ہیں واللہ ! اس کو اس طرح چھوڑا گیا کہ ہمیں گمان ہو رہا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ واللہ ! ہم نے تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا بلکہ ہمیں اللہ نے پلایا ہے۔