(۳۲۴۱۰) حَدَّثَنَا سُوَیْد بْنُ عَمْرٍو الْکَلْبِیُّ وَمَالِکَ بن إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، قَالَ : عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، فَافْتَرَشَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِہِ فَانْتَبَہْت بَعْضَ اللَّیْلِ فَإِذَا نَاقَۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ قُدَّامَہَا أَحَد، فَانْطَلَقْت أَطْلُبُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ قَیْسٍ قَائِمَانِ ، قَالَ : قُلْتُ أَیْنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالاَ : لاَ نَدْرِی ، غَیْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا فِی أَعْلَی الْوَادِی ، فَإذا مِثْلُ ہَزِیرِ الرَّحَی ، فَلَمْ نَلْبَثْ إلاَّ یَسِیرًا حَتَّی أَتَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّہُ أَتَانِی اللَّیْلَۃَ آتٍ مِنْ رَبِّی فَخَیَّرَنِی أَنْ یُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِی الْجَنَّۃَ وَبَیْنَ الشَّفَاعَۃِ ، وَإِنِّی اخْتَرْت الشَّفَاعَۃَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، نَنْشُدُک اللَّہَ وَالصُّحْبَۃَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَہْلِ شَفَاعَتِکَ ، قَالَ : فَأَنْتُمْ مِنْ أَہْلِ شَفَاعَتِی ، قَالَ : فَأَقْبَلْنَا مَعَانِیقَ إلَی النَّاسِ ، قَالَ : فَإِذَا ہُمْ قَدْ فَزِعُوا وَفَقَدُوا نَبِیَّہُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّہُ أَتَانِی اللَّیْلَۃَ آتٍ مِنْ رَبِّی فَخَیَّرَنِی بَیْنَ أَنْ یُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِی الْجَنَّۃَ وَبَیْنَ الشَّفَاعَۃِ ، وَإِنِّی اخْتَرْت الشَّفَاعَۃَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، نَنْشُدُک اللَّہَ وَالصُّحْبَۃَ ، لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَہْلِ شَفَاعَتِکَ ، فَلَمَّا أَضَبُّوا عَلَیْہِ ، قَالَ : فَإِنِّی أُشْہِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِی لِمَنْ مَاتَ مِنْأُمَّتِی لاَ یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا۔ (ابن خزیمۃ ۳۸۷)
(٣٢٤١٠) حضرت عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس ٹھہرے ، چنانچہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی سواری کے اگلے پاؤں پر سرہانہ لگا لیا، میں رات کے کسی حصّے میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے سامنے کوئی نہیں، چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرنے نکلا تو معاذ بن جبل اور عبداللہ بن قیس کھڑے تھے، میں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں ؟ کہنے لگے کہ ہمیں اس کے علاوہ کوئی علم نہیں کہ ہم نے وادی کے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی تو سنا کہ پن چکّی جیسی آواز آرہی تھی، چنانچہ ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل ہونے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں سے کر دیجئے، آپ نے فرمایا تم میری شفاعت کے حصّہ داروں میں ہو، کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے لوگوں کے پاس آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کر رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل کیے جانے اور میری شفاعت کے درمیان اختیار دیا، اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں کر دیجئے، آپ نے فرمایا کہ میں تمام حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کے لیے ہوگی جو اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہوگا۔