(۳۲۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو بن الأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّہِ أُمِّ جُنْدُبٍ ، قَالَتْ : رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی یَوْمَ النَّحْرِ وَہُوَ عَلَی دَابَّۃٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ خَثْعَمَ ، وَمَعَہَا صَبِیٌّ لَہَا بِہِ بَلاَئٌ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ ہَذَا ابْنِی وَبَقِیَّۃُ أَہْلِی ، وَإِنَّ بِہِ بَلاَئً لاَ یَتَکَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ائْتُونِی بِشَیْئٍ مِنْ مَائٍ ، فَأُتِیَ بِہِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَمَضْمَضَ فَاہُ ، ثُمَّ أَعْطَاہَا ، فَقَالَ : اسْقِیہِ مِنْہُ ، وَصُبِّی عَلَیْہِ مِنْہُ ، وَاسْتَشْفِی اللَّہَ لَہُ ، قَالَتْ : فَلَقِیتُ الْمَرْأَۃَ ، فَقُلْتُ : لَوْ وَہَبْت لِی مِنْہُ ، فَقَالَتْ : إنَّمَا ہُوَ لِہَذَا الْمُبْتَلَی، فَلَقِیت الْمَرْأَۃَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُہَا عَنِ الْغُلاَمِ ، فَقَالَتْ : بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلاً لَیْسَ کَعُقُولِ النَّاسِ۔ (ابوداؤد ۱۹۶۱۔ احمد ۵۰۳)ق
(٣٢٤١٤) حضرت امّ جندب فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو بطن الوادی سے جمرۃ العقبۃ کی رمی کی، جبکہ آپ سواری پر تھے، پھر آپ مڑے اور قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پیچھے ہوئی، اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا جس پر اثر تھا، کہنے لگی یا رسول اللہ ! یہ میرا بیٹا اور میرا وارث ہے، اور اس کو ایک اثر ہے جس کی وجہ سے بولتا نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے پاس تھوڑا پانی لاؤ، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور اس کو پانی دے دیا، اور فرمایا کہ اس کو اس سے پلاؤ اور اس پر اس سے چھڑکو، اور اللہ سے اس کے لیے شفاء مانگو ، کہتی ہیں کہ میں ایک عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تھوڑا سا پانی اس میں سے مجھے دے دیں تو کیسا ہے، وہ کہنے لگی کہ یہ تو اس آفت زدہ کے لیے ہے، پھر میں ایک سال کے بعد عورت سے ملی اور اس سے لڑکے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ صحت یاب ہوگیا اور ایسا عقل مند ہوگیا کہ عام لوگ اتنے عقل مند نہیں ہوتے۔