(۳۲۴۱۵) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونً ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَرْدَفَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ خَلْفَہُ فَأَسَرَّ إلَیَّ حَدِیثًا لاَ أُحَدِّثُہُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، وَکَانَ مِمَّا یُعْجِبُہ ، یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یَسْتَتِرَ بِہِ لِقَضَائِ حَاجَتِہِ ہَدَفٌ ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ ، فَدَخَلَ یَوْمًا حَائِشَ نَخْلِ الأَنْصَارِ فَرَأَی فِیہِ بَعِیرًا ، فَلَمَّا رَآہُ الْبَعِیرُ خَرَّ وَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ ، قَالَ : فَمَسَحَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرَاتَہُ وَذِفْرَاہُ فَسَکَنَ ، فَقَالَ : لِمَنْ ہَذَا الْبَعِیرُ ؟ أَوْ مَنْ رَبُّ ہَذَا الْبَعِیرِ ؟ قَالَ : فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : أَنَا یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إلَیْہِ فَقَدْ شَکَا إلَیَّ أَنَّک تُجِیعُہُ وَتُدْئِبُہُ۔ (ابوداؤد ۲۵۴۲۔ احمد ۲۰۶)
(٣٢٤١٥) حضرت عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنا ردیف بنایا اور مجھے رازداری سے ایک بات بتلائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، اور آپ کو یہ پسند تھا کہ قضاء حاجت کے لیے آپ کو کوئی ٹیلہ یا کھجور کے درخت کا جھنڈ چھپالے، ایک مرتبہ آپ انصار کے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک اونٹ دیکھا ، جب اونٹ نے آپ کو دیکھا تو گرگیا اور اس کی آنکھیں بہنے لگیں، چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی پیٹھ اور گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہوگیا، آپ نے فرمایا کہ یہ اونٹ کس کا ہے ؟ یا فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ تو ایک انصاری نے کہا یا رسول اللہ 5! میں ہوں، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ یہ مجھے شکایت کررہا ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور ہمیشہ کام میں لگا کر رکھتے ہو۔