(۳۲۴۲۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْن ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : خَرَجَ إلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ وَہُوَ غَضْبَانُ وَنَحْنُ نَرَی أَنَّ مَعَہُ جِبْرِیلَ ، قَالَ : فَمَا رَأَیْت یَوْمًا کَانَ أَکْثَرَ بَاکِیًا مُتَقَنِّعًا مِنْہُ ، قَالَ : سَلُونِی فَوَاللہِ لاَ تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ إلاَّ أَنْبَأْتُکُمْ بِہِ ، قَالَ : فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَفِی الْجَنَّۃِ أَنَا أَمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ فِی النَّارِ ، قَالَ : فَقَامَ إلَیْہِ آخَرُ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَنْ أَبِی ؟ قَالَ : أَبُوک حُذَافَۃُ ، قَالَ : فَقَامَ إلَیْہِ آخَرُ ، فَقَالَ : أَعْلَیْنَا الْحَجُّ فِی کُلِّ عَامٍ؟ قَالَ : لَوْ قُلْتُہَا لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِہَا ، وَلَوْ لَمْ تَقُومُوا بِہَا لَعُذِّبْتُمْ۔
قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، یَا رَسُولَ اللہِ ، کُنَّا حَدِیثِی عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ ، فَلاَ تُبْدِ سَوْآتِنَا ، وَلاَ تَفْضَحْنَا لِسَرَائِرِنَا وَاعْفُ عَنَّا عَفَا اللَّہُ عَنْک ، قَالَ : فَسُرِّیَ عَنْہُ ، ثُمَّ الْتَفَتَ نَحْوَ الْحَائِطِ ، فَقَالَ : لَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِ ، رَأَیْت الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ دُونَ ہَذَا الْحَائِطِ۔ (بخاری ۹۳۔ مسلم ۱۸۳۲)
(٣٢٤٢٢) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے کی حالت میں ہمارے پاس آئے، اور ہم سمجھتے تھے کہ آپ کے ساتھ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ رونے والا کوئی دن نہیں پایا، آپ نے فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو، بخدا تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا، کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جنت میں ہوں یا دوزخ میں ، آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ دوزخ میں ، دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا والد کون ہے ؟ فرمایا کہ تمہارا والد حذافہ ہے، ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم پر ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر میں یہ کہہ دوں تو واجب ہوجائے گا۔ اگر واجب ہوا تو تم اس کو ادا نہیں کرسکو گے، اور اگر تم اس کو ادا نہ کرو گے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا۔
کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور عرض کیا ” رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُولا “ یا رسول اللہ ! ہمارا جاہلیت کا زمانہ قریب ہے، آپ ہماری برائیاں ظاہر نہ فرمائیں، اور ہمیں ہمارے پوشیدہ کاموں کی وجہ سے رسوا نہ فرمائیے، اور ہمیں معاف فرمائیے ، اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ہے، کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کی یہ حالت ختم ہوگئی، پھر آپ دیوار کی طرف متوجہ ہوئے ، اور فرمایا کہ میں نے آج کی طرح خیر و شر میں کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے پاس پایا۔