(۳۲۴۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ ، عَنِ الضِّحَاکِ ، قَالَ : جَائَ جِبْرِیلُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَقْرَأَہُ آخِرَ الْبَقَرَۃِ حَتَّی إذَا حَفِظَہَا ، قَالَ : اقْرَأْہَا عَلَی ، فَقَرَأَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ جِبْرِیلُ یَقُولُ : ذَلِکَ لَک ، ذَلِکَ لَک {لاَ تُؤَاخِذْنَا إنْ نَسِینَا أَوْ أَخْطَأْنَا}۔ (ابن جریر ۱۶۰)
(٣٢٤٥٩) ضحاک فرماتے ہیں کہ جبرائیل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو سورة بقرہ کی آخری آیات پڑھائیں، یہاں تک کہ جب آپ کو یاد ہوگئیں تو فرمایا کہ مجھے پڑھ کر سنائیے، چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے رہے اور جبرائیل کہتے رہے ” یہ آپ کے لیے ہے یہ آپ کے لیے ہے، کہ ہمارا مؤاخذہ نہ فرمائیے اگر ہمیں بھول ہوجائے یا غلطی ہوجائے۔ “