(۳۲۴۶۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ : إِنَّہُ قَالَ : کُنْتُ غُلاَمًا یَافِعًا أَرْعَی غَنَمًا لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ ، فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ - وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِکِینَ - فَقَالاَ : یَا غُلاَمُ ، ہَلْ لَکَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِینَا ؟ قُلْتُ : إنِّی مُؤْتَمَنٌ وَلَسْت سَاقِیَکُمَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ جَذَعَۃٍ لَمْ یَنْزُ عَلَیْہَا الْفَحْلُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَتَیْتُہُمَا بِہَا فَاعْتَقَلَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَسَحَ الضَّرْعَ وَدَعَا فَحَفَلَ الضَّرْعُ ، ثُمَّ أَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ بِصَخْرَۃٍ مُنْقَعِرَۃٍ - أَوْ مُنْقَرَۃٍ - فَاحْتَلَبَ فِیہَا ، فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ شَرِبْت ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ : اقْلِصْ ، فَقَلَصَ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقُلْتُ : عَلِّمْنِی مِنْ ہَذَا الْقَوْلِ ، قَالَ : إنَّک غُلاَمٌ مُعَلَّمٌ۔
(٣٢٤٦١) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چراتا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر آئے جبکہ وہ دونوں مشرکین سے فرار ہوئے تھے، اور فرمایا اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس ہمیں پلانے کے لیے کچھ دودھ ہے ؟ میں نے کہا کہ میں امین ہوں، اور آپ کو پلا نہیں سکتا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی چھ ماہ کی بکری ہے جس پر کوئی نر نہ کو دا ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! میں ان کے پاس لایا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور تھنوں کو ہاتھ لگایا اور دعا فرمائی، پھر حضرت ابوبکر آپ کے پاس ایک کھدا ہوا پتھر لائے ، آپ نے اس میں دودھ دوہا، آپ نے دودھ پیا اور حضرت ابوبکر نے بھی پیا، پھر میں نے پیا، پھر آپ نے تھن سے فرمایا سکڑ جا، چنانچہ وہ سکڑ گیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ان باتوں میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے ، فرمایا کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔