(۳۲۴۷۱) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُ الْکِتَابَ عَلَی جِبْرِیلَ فِی کُلِّ رَمَضَانَ ، فَإِذَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّیْلَۃِ الَّتِی یَعْرِضُ فِیہَا مَا یَعْرِضُ أَصْبَحَ وَہُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ لاَ یُسْأَلُ شَیْئًا إلاَّ أَعْطَاہُ۔
(٣٢٤٧١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل کے ساتھ ہر رمضان میں قرآن کا دور کرتے تھے، جب اس رات کی صبح ہوتی جس میں آپ نے دور کیا ہوتا تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے، اور آپ سے جس چیز کا بھی سوال کیا جاتا وہی عطا فرما دیتے۔