(۳۲۴۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی السَّلیل ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ - وَکَانَ مِنْ أکْثَرِ النَّاسِ ، أَوْ مِنْ أَحْدَثِ النَّاسِ ، عَنْ بَنِی إسْرَائِیلَ - قَالَ : فَحَدَّثَنَا أَنَّ الشِّرْذِمَۃَ الَّذِینَ سَمَّاہُمْ فِرْعَوْنُ مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ کَانُوا سِتَّمِئَۃِ أَلْفٍ ، وَکَانَ مُقَدَّمَۃُ فِرْعَوْنَ سَبْعَمِئَۃِ أَلْفٍ ، کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ عَلَی حِصَانٍ ، عَلَی رَأْسِہِ بَیْضَۃٌ وَبِیَدِہِ حَرْبَۃٌ وَہُوَ خَلْفَہُمْ فِی الدُّہْمِ ، فَلَمَّا انْتَہَی مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِبَنِی إسْرَائِیلَ إلَی الْبَحْرِ ، قَالَتْ بَنُو إسْرَائِیلَ : أَیْنَ مَا وَعَدْتنَا ہَذَا الْبَحْرُ بَیْنَ أَیْدِینَا ، وَہَذَا فِرْعَوْنُ وَجُنُودُہُ قَدْ دَہَمَنَا أَو مِنْ خَلْفِنَا ، فَقَالَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ لِلْبَحْرِ : انْفَلِقْ أَبَا خَالِدٍ ، فَقَالَ : لاَ أَنَفْلِقُ لَک یَا مُوسَی ، أَنَا أَقْدَمُ مِنْک خَلْقًا ، أَوْ أَشَدُّ ، قَالَ : فَنُودِیَ : {أَنَ اضْرِبْ بِعَصَاک الْبَحْرَ} فَضَرَبَ {فَانْفَلَقَ}۔
قَالَ الْجُرَیْرِیُّ : وَکَانُوا اثْنَیْ عَشَرَ سِبْطًا ، وَکَانَ لِکُلِّ سِبْطٍ مِنْہُمْ طَرِیقٌ ، فَلَمَّا انْتَہَی أَوَّلُ جُنُودِ فِرْعَوْنَ إلَی الْبَحْرِ ہَابَتِ الْخَیْلُ اللہب ، وَمُثِّلَ لِحِصَانٍ مِنْہَا فَرَسٌ وَدِیقٌ ، فَوَجَدَ رِیحَہَا ، فَأبسلَ تَتْبَعُہُ الْخَیْلُ ، فَلَمَّا تَتَامَّ آخِرُ جُنُودِ فِرْعَوْنَ فِی الْبَحْرِ خَرَجَ آخِرُ بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ الْبَحْرِ فَانْصَفَقَ عَلَیْہِمْ ، فَقَالَتْ بَنُو إسْرَائِیلَ : مَا مَاتَ فِرْعَوْنُ ، وَمَا کَانَ لِیَمُوتَ أَبَدًا ، قَالَ : فَلَمْ یَعُدُ أَنْ سَمَّعَ اللَّہُ تَکْذِیبَہُمْ نَبِیَّہُ ، فَرَمَی بِہِ عَلَی السَّاحِلِ کَأَنَّہُ ثَوْرٌ أَحْمَرُ یَتَرَاء اہُ بَنُو إسْرَائِیلَ۔ (ابن جریر ۱۹)
(٣٢٤٩٩) ابو السّلیل حضرت قیس بن عباد سے روایت کرتے ہیں جو بنی اسرائیل کے بارے میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، کہتے ہیں کہ انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ جماعت جن کے نام فرعون نے لکھے ہوئے تھے چھ لاکھ لوگ تھے اور فرعون کا مقدمۃ الجیش سات لاکھ افراد پر مشتمل تھا، اور ہر شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کے سر پر خود ہوتا، اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا ، اور وہ ان لوگوں کے پیچھے پیچھے ہوتا، جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو سمندر تک لے گئے تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہاں ہے جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے، سمندر ہمارے سامنے ہے اور فرعون اور اس کا لشکر ہم پر چڑھا آ رہا ہے، یا کہا کہ ہمارے پیچھے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سمندر ! پھٹ جا، اس نے کہا اے موسیٰ میں آپ کے لیے نہیں پھٹتا، میں پیدائش میں آپ سے مقدم ہوں، یا کہا مضبوط ہوں، چنانچہ آواز دی گئی کہ سمندر پر اپنا عصار مارو، آپ نے عصا مارا تو وہ پھٹ گیا۔
جُریری کہتے ہیں کہ وہ بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کا ایک راستہ جدا تھا، جب فرعون کے لشکر کا پہلا حصّہ سمندر تک پہنچا تو گھوڑے مشعلوں سے ڈر گئے، اور ہر گھوڑے کے سامنے ایک مادہ گھوڑی کی شکل آگئی چنانچہ گھوڑے تیزی سے ان کے پیچھے دوڑنے لگے، جب لشکر کا آخری حصّہ سمندر میں پہنچ گیا تو بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل گئے، چنانچہ سمندر ان پر مل گیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا، اور وہ تو کبھی نہیں مرے گا، چنانچہ ابھی اللہ نے ان کی تکذیب ان کے نبی تک بھی نہ پہنچائی تھی کہ سمندر نے اس کو ساحل پر ڈال دیا گویا کہ وہ سرخ رنگ کا بیل تھا، اس کو بنی اسرائیل دیکھنے لگے۔